13 ستمبر 2011 - 19:30

لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سینئر مذاکرات کار عبداللہ کنشیل نے کہا ہے کہ بنی ولید میں بعض مسلح افراد نے ہتھیار ڈال دئے ہیں۔

ابنا: ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق عبداللہ کنشیل نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا بنی ولید کے باشندوں کے ساتھ مذاکرات منقطع ہوگئے ہیں یا نہیں ؟ کہا کہ اس شہر کے بہت سے مسلح افراد نے ہتھیار ڈال دئے ہیں اور وہ یا اپنے گھروں میں محصور ہیں، امید ہے کہ باقی مسلح افراد بھی ہتھیار ڈال دیں گے اور انقلابیوں کی صفوں میں شامل ہوجائیں گے۔ انہوں نے اس بارے میں کہ بنی ولید کی طرف پیش قدمی کے سلسلے میں انقلابی کہاں تک پہنچے ہیں کہا کہ انقلابی افراد اب بھی بنی ولید کے علاقوں، خاص طور سے ، شمالی اور مشرقی علاقوں میں موجود ہیں۔ عبداللہ کنشیل نے کہا کہ ملک کے اکثر فبائلی سردار اہم شخصیات انقلاب کے حامی ہیں اور انہوں نے واضح طورپر انقلابی نظریات کا اعلان بھی کیا ہے۔ تیونس، مصر، لیبیا میںآمریت اور مغرب نواز حکومتوں کے اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے بعد اس وقت یمن اور بحرین کا انقلاب اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔البتہ ان دونوں ملکوں میں امریکہ اور سعودی عرب کی مداخلت نے انقلاب کا راستہ روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا ہے تاہم یوں دکھائی دیتاذ ہے کہ ان دونوں ملکوں سے بھی مغرب نوازوں کا سفایا عنقریب ہونے والا ہے۔ بحرین کے ایک انقلابی رہنما ہانی الریس نے کہا ہے کہ ملت بحرین، آل خلیفہ کی حکومت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ ہانی الریس نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ بحرینی عوام ہر روز مظاہرے کرکے ابھے صرف اپنے ابتدائي حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ منامہ حکومت کے جارحانہ اور تشدد آمیز اقدامات کے باوجود یہ تحریک نہیں رکے گي۔ انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت، عوام کو ان کے حقوق دینے اور وہ مساجد جو اس نے سعودی فوجیوں کی مدد سے شہید کی تھیں، انہیں دوبارہ تعمیر کرنے سے انکار کررہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ کہ بحرینی زائرین جنہیں، بحرین سعودی بارڈر پر گرفتار کیا گیا تھا، اب بھی شاہی حکومت کی جیلوں میں ہیں، انہوں نے کہا ان قیدیوں میں کئي بچے بھی شامل ہیں۔ بحرین کے اس انقلابی رہنما نے کہا کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کو سعودی عرب، امارات، امریکہ اور یورپ کی مدد حاصل ہونے کے باوجود ہماری تحریک جاری ہے اورعوام کو پسپا کرنےمیں آل خلیفہ کی حکومت کی تمام کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ بحرین میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت اتنی مضبوط نہیں ہے کہ وہ عوام کے سامنے ٹہر سکے، بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈہ اور سعودی عرب کی فوجی مداخلت دو ایسے عوامل ہیں جو آل خلیفہ کی شاہی حکومت کی سیاسی حیات کو دوام بخش رہے ہیں لیکن کیا بن علی، حسنی مبارک، معمر قذافی جیسے لوگ ، اپنا اقتدار محفوظ رکھ سکے جو آل خلیفہ، امریکہ اور سعودی عرب کے بھروسے کئے ہوئے ہے۔ بلا شبہ اس سوال کا جواب بہت جلد مل جائے گا۔ ............

/169